361342_59576639

پاناماکیس :جے آئی ٹی کی رپورٹ پر سپریم کورٹ میں سماعت جاری-جو دستاویزات پیش کی گئیں وہ نجی ہیں کل کو آپ یہ بھی لکھوا سکتے ہیں یہ مشینری ٹائٹینک کے ذریعے جدہ بھجوائی گئی۔ جسٹس عظمت

دستاویزات بعد میں عدالت میں جمع کرائی گئیں اورمیڈیا پرپہلے آئیں – باہر میڈیا کے ڈائس پر جا کر ہی دلائل دیں۔ عدالت سلمان اکرم راجہ پر شدید برہم
اسلام آباد (اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین-انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔20 جولائی۔2017ء)سپریم کورٹ میںپاناماکیس میں جے آئی ٹی کی رپورٹ پر سماعت جاری ہے -سماعت کے دوران جسٹس عظمت سعید نے سلمان اکرم راجہ سے کہا کہ تمام دستاویزات میڈیا پر زیرِ بحث ہیں اور آپ تو میڈیا کو بھی دلائل دے رہے ہیں۔جسٹس اعجاز کا کہنا تھا کہ بہتر ہے کہ آپ باہر میڈیا کے ڈائس پر جا کر ہی دلائل دیں۔
اس پر سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ انھوں نے میڈیا کو دستاویزات فراہم نہیں کی ہیں۔بینچ کے سربراہ جسٹس اعجاز افضل نے کہا کہ جے آئی ٹی کی رپورٹ حتمی نہیں ہے جبکہ جسٹس عظمت سعید نے کہا کہ ہم یہ لکھ کر دے دیتے ہیں کہ سپریم کورٹ نے فیصلہ جے آئی ٹی کی فائنڈنگز پر نہیں کرنا۔جسٹس عظمت سعید نے استفسار کیا کہ جو دستاویزات آپ دکھا رہے ہیں وہ نجی دستاویزات ہیں اور ان میں آپ یہ بھی لکھوا سکتے ہیں یہ مشینری ٹائٹینک کے ذریعے جدہ بھجوائی گئی۔
جسٹس عظمت سعید کا کہنا تھا کہ کیا یہ درست نہیں ہے کہ عزیزیہ سٹیل مل کے واجبات 21 ملین تھے جبکہ 53 ملین حسین نواز کو دیے گئے۔اس پر سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ جے آئی ٹی نے اپنی کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ حسین نواز کو 63 ملین کے بجائے 42 ملین ملے اور 63 ملین کی رقم عزیزیہ سٹیل مل کے اکاونٹ میں موجود ہے۔سلمان اکرم راجہ نے کہاکہ جو دستاویزات پیش کی گئی ہیں ان میں حسین نواز کے بارے میں یو اے ای کے محکمہ انصاف نے غلط بیانی کی اس لیے ہم محکمہ انصاف کے خلاف قانونی کارروائی کا حق رکھتے ہیں۔
اس پر جسٹس اعجاز الاحسن کا کہنا تھا کہ عدالت اس وقت تک آپ کے جواب کا انتظار کرے جب تک آپ یو اے ای کے محکمہ انصاف کے خلاف قانونی کارروائی نہیں کر لیتے۔جواب میں سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ مقدمے کی کارروائی آگے بڑھانے کے لیے ایسا کرنا ناگزیر ہے۔جسٹس اعجاز الاحسن نے سلمان اکرام راجہ سے سوال کیا کہ وہ دستاویزات دکھائیں کہ آپ نے باقی دو حصے داروں کی ادائیگیاں بھی کر دی ہیں۔
اس پر سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ دستاویزات جیب میں موجود نہیں کہ نکال کر دکھا دوں۔ان کے جواب پر جسٹس عظمت سعید نے کہا کہ ان سوالات کے جوابات تلاش کرنے کے لیے ہی جے آئی ٹی بنائی گئی تھی۔بینچ کے سربراہ جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ عزیزیہ مل کے واجبات کسی خفیہ شخص نے ادا کیے ہیں۔اس پر سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ میں معلوم کروں گا کہ یہ واجبات کس نے ادا کیے ہیں۔
مریم، حسن اور حسین نواز کے وکیل سلمان اکرم راجہ نے عدالت میں کہا کہ وہ دستاویزات لے کر آئے ہیں جن کے بارے میں کہا جا رہا تھا کہ ان کا کوئی وجود ہی نہیں تھاجسٹس اعجاز افضل نے کہا کہ جے آئی ٹی کے نام پر چند دستاویزات ہمیں بھی ملی ہیں۔ جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ ان میں سے ایک دستاویز قطری شہزادے کا خط ہے اور ایک دستاویز برٹش ورجن آئی لینڈ سے متعلق ہے اور یہ دونوں دستاویزات عدالت میں ہی کھولی جائیں گی۔
انہوں نے کہا کہ جے آئی ٹی نے متعلقہ حکام سے ان دستاویزات کی تصدیق بھی کروائی تھی جبکہ مریم نواز کے وکیل نے ان دستاویزات سے لاتعلقی کا اظہار کیا تھا- جے آئی ٹی کی حتمی رپورٹ پر چوتھے روز کی سماعت میں وزیراعظم کے بچوں کے وکیل سلمان اکرم راجا دلائل دے رہے ہیں۔جسٹس اعجاز افضل خان کی سربراہی میں جسٹس عظمت سعید شیخ اور جسٹس اعجاز الاحسن پر مشتمل سپریم کورٹ کا 3 رکنی عمل درآمد بینچ مذکورہ کیس کی سماعت کر رہا ہے۔
سماعت کے آغازمیں عدالت کی جانب سے برہمی کا اظہارکیا گیا اورریمارکس میں کہا گیا کہ دستاویزات بعد میں عدالت میں جمع کرائی گئیں اورمیڈیا پرپہلے آئیں جس پرسلمان اکرم راجہ نے اپنے دلائل میں کہا کہ میں نے اپنے طورپرجلد دستاویزات جمع کرانے کی کوشش کی جس پر جسٹس اعجاز افضل نے ریمارکس دیئے کہ آپ نے دستاویزات وقت پرجمع کرانے کا کہا تھا، تمام دستاویزات میڈیا پرزیر بحث رہیں، جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیئے کہ ایک خط قطری شہزادے کا ہے جب کہ جسٹس عظمت سعید نے ریمارکس میں کہا کہ آپ نے میڈیا پر اپنا کیس چلایا جس پر سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ میڈیا پر دستاویز میری طرف سے جاری نہیں کی گئی۔
جسٹس اعجاز افضل نے ریمارکس دیئے کہ باہر میڈیا کا ڈائس لگا ہے، وہاں دلائل بھی دے آئیں، جسٹس اعجاز الاحسن ن ریمارکس دیئے کہ ایک دستاویز قطری شہزادے اور ایک برٹش ورجن آئی لینڈ سے متعلق ہے جب کہ جسٹس عظمت سعید نے ریمارکس دیئے کہ دونوں دستاویزات عدالت میں ہی کھولیں گے، تمام دستاویزات لیگل ٹیم نے ہی میڈیا کو دی ہوں گی، جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیئے کہ قطری خط میں کیا ہے یہ علم نہیں، قطری خط میں کیا ہے یہ علم نہیں۔
جسٹس عظمت سعید نے ریمارکس میں کہا کہ اطمینان سے آپ کی بات سنیں گے۔ جسٹس اعجازالاحسن نے ریمارکس دیئے کہ جے آئی ٹی نے متعلقہ حکام سے تصدیق کروانا تھی، مریم کے وکیل نے عدالت میں منروا کی دستاویزات سے لاتعلقی ظاہر کی جس پر سلیمان اکرم نے کہا کہ جے آئی ٹی نے یو اے ای کے خط پر نتائج اخذ کیے، یو اے ای کے خط پر حسین نوازسے کوئی سوال نہیں پوچھا گیا جب کہ حسین نواز کی تصدیق شدہ دستاویزات کو بھی نہیں مانا گیا۔
جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیئے کہ مریم نواز کے وکیل نے عدالت میں منروا کی دستاویزات سے انکار کیا تھا جس پر وکیل سلمان اکرم نے کہا کہ جے آئی ٹی نے دبئی حکام کے جواب پر حسین نواز سے جرح نہیں کی، یو اے ای کے محکمہ انصاف کے خط کو دیکھ لیں جس پر جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیئے کہ آپ نے جو دستاویزات دیں، جے آئی ٹی نے ان کی محکمہ انصاف سے تصدیق کرائی جس پر سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ دبئی کی دستاویزات بارے حسین نواز سے پوچھا جانا چاہیے تھا۔
جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس میں کہا کہ متحدہ عرب امارات سے بھی حسین نواز کی دستاویزات کی تصدیق مانگی گئی تھی۔سماعت کے دوران سلمان اکرم راجہ نے یو اے ا ی کی وزارت انصاف کا خط پڑھ کرسنایا اور کہا کہ یو اے ای حکام نے گلف سٹیل ملز کے معاہدے کا ریکارڈ نہ ہونے کا جواب دیا، 12 ملین درہم کی ٹرانزیکشنزکی بھی تردید کی گئی، خط میں کہا گیا کہ مشینری کی منتقلی کا کسٹم ریکارڈ بھی موجود نہیں جس پر جسٹس عظمت سعید نے ریمارکس میں کہا کہ یو اے ای حکام نے کہا تھا یہ مہر ہماری ہے ہی نہیں۔
وکیل سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ کچھ غلط فہمی ہوئی ہے جس پر جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیئے کہ حسین نواز اور طارق شفیع سے پوچھا تو انہوں نے کہا ہم نے نوٹری نہیں کرایا، سب نے کہا یہ نوٹری مہر کو نہیں جانتے، اس کا مطلب یہ دستاویزات غلط ہیں، پوچھا گیا تھا کہ حسین نواز نے نوٹری پبلک سے تصدیق کروائی، حسین نواز نے جے آئی ٹی کو بتایا تھا کہ وہ دبئی نہیں گئے پھرکس نے نوٹری پبلک سے تصدیق کروائی، اس سے تو یہ دستاویزات جعلی لگتی ہیں جس پر سلمان اکرم نے کہا کہ حسین نواز کی جگہ کوئی اور نوٹری تصدیق کے لیے گیا تھا، جے آئی ٹی نے حسین نواز پر جرح نہیں کی جس پر جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیئے کہ ہم آپ سے پوچھ رہے ہیں اپنا موقف ہمیں بتا دیں جس پر سلمان اکرم نے کہا کہ یو اے ای حکام سے سنگین غلطی ہوئی ہو گی۔
جسٹس اعجاز افضل نے ریمارکس دیئے کہ آپ کو چاہیے تھا تمام ریکارڈ جے آئی ٹی کو فراہم کرتے، اب آپ نئی دستاویزات لے آئے ہیں، اب دیکھتے ہیں کہ ان کے کیس پراثرات ہوں گے۔سماعت کے باعث سپریم کورٹ کے اطراف میں سیکورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے ہیں جب کہ ریڈزون میں عام شہریوں کا داخلہ بند ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *