Nafees-Zakaria-Pakistan-Foreign-Office-spokesman

بھارت اقوام متحدہ کے مبصرین کو مقبوضہ کشمیر میں کام نہیں کرنے دے رہا-ایل او سی پر جنگ بندی معاہدے کی مسلسل خلاف ورزیاں خطے کی صورتحال سے توجہ ہٹانے کے لیے ہیں

بھارت اقوام متحدہ کے مبصرین کو مقبوضہ کشمیر میں کام نہیں کرنے دے رہا-ایل او سی پر جنگ بندی معاہدے کی مسلسل خلاف ورزیاں خطے کی صورتحال سے توجہ ہٹانے کے لیے ہیں۔ ”را“ افغانستان میں موجود ہے جس کے ذریعے بھارت پاکستان کے خلاف افغان سرزمین استعمال کر رہا ہے-ترجمان دفترخارجہ نفیس ذکریا کی پریس بریفنگ

اسلام آباد (اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین-انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔20 جولائی۔2017ء) بھارت اقوام متحدہ کے مبصرین کو مقبوضہ کشمیر میں کام نہیں کرنے دے رہا جبکہ جنگ بندی معاہدے کی مسلسل خلاف ورزیاں خطے کی صورتحال سے توجہ ہٹانے کے لیے ہیں۔دفتر خارجہ کے ترجمان نفیس ذکریا نے ہفتہ وار پریس بریفنگ کے دوران کہا کہ گزشتہ روز بھی لائن آف کنٹرول پر بھارت کی خلاف ورزی اور بلا اشتعال فائرنگ سے پاک فوج کے 2 جوان شہید ہوئے تھے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان بھارت کی جانب سے لائن آف کنٹرول کی مسلسل خلاف ورزیوں کی مذمت کرتا ہے۔نفیس ذکریا نے کہا کہ بھارت کی جانب سے رواں برس اب تک جنگ بندی کی 580 خلاف ورزیاں ہوئیں جن میں 21 پاکستانی شہید جبکہ 30 زخمی ہوئے۔افغانستان کے حوالے سے بات کرتے ہوئے نفیس ذکریا نے کہا کہ پاکستان اپنی سر زمین سے دہشت گردی کے مکمل خاتمے کے لیے پرعزم ہے جبکہ افغانستان میں گزشتہ 40 برس سے شورش برپا ہے اور اسی وجہ سے وہاں دہشت گردی نے زور پکڑا۔
حقانی نیٹ ورک کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ حقانی نیٹ ورک کے کئی رہنما افغانستان میں مارے جا چکے ہیں جبکہ امریکہ سمیت دنیا کے کئی ممالک نے پاکستان کی انسداد دہشت گردی کی کوششوں کو تسلیم کیا۔انہوں نے بتایا کہ پاکستان نے 50 کروڑ امریکی ڈالر کی مدد سے افغانستان میں صحت، تعلیم اور دیگر ترقیاتی منصوبے مکمل کیے۔نفیس ذکریاکہا کہ ٹرمپ انتظامیہ کی افغانستان میں پالیسی کی تبدیلی کے لیے نظر ثانی ابھی مکمل نہیں ہوئی۔
ترجمان دفترخارجہ نے کہا کہ پاکستان پہلے بھی باور کراچکا ہے کہ بھارت پاکستان کے خلاف افغان سرزمین استعمال کر رہا ہے اور کلبھوشن یادیو نے بھارت کی جانب سے پاکستان میں دہشت گردی، تخریب کاری اور دہشت گردوں کی مالی امداد کا اعتراف کیا۔انہوں نے کہا کہ تحریک طالبان کے کمانڈر احسان اللہ احسان نے بھی اپنے بیان میں بتایا تھا کہ بھارتی خفیہ ایجنسی ”را“ افغانستان میں موجود ہے جبکہ بھارت پاکستان میں ہونے والی دہشت گرد کارروائیوں میں مالی مدد بھی کرتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان افغانستان میں امن و استحکام کا خواہاں ہے جبکہ افغان مسئلے کا کوئی فوجی حل ممکن نہیں لہٰذا پاکستان افغانستان میں امن اور مفاہمت کے قیام کے لیے اپنا کردار جاری رکھے گا۔پاک ایران بارڈر کمیشن کے اجلاس پر بریفنگ دیتے ہوئے ترجمان دفترخارجہ کا کہنا تھا کہ اعلیٰ سطح کے اجلاس میں سرحدی امور پر تفصیلی بات چیت ہوئی۔
مقبوضہ فلسطین پر پاکستان کی پالیسی کی واضح دیتے ہوئے نفیس ذکریا کا کہنا تھا کہ پاکستان ایک آزاد فلسطین کا حامی ہے۔ ایک سوال کے جواب میں ترجمان دفترخارجہ نے کہا کہ بھارت ہمارے خلاف افغان سرزمین استعمال کر رہا ہے، کل بھوشن جادیو کے اعترافات میں بھی اس نے بھارت کی جانب سے پاکستان میں دہشت گردی، تخریب کاری اور دہشت گردوں کی مالی امداد کا اعتراف کیا۔
انہوں نے کہا کہ ہم بھارت کی جانب سے ایل او سی کی مسلسل خلاف ورزیوں کی مذمت کرتے ہیں، گزشتہ روز بھی ایل او سی پر بھارت کی خلاف ورزی و بلا اشتعال فائرنگ سے 2 جوانوں سمیت 2 شہری بھی بھارتی بلا اشتعال فائرنگ کا نشانہ بنے۔ ان کا کہنا تھا کہ مقبوضہ کشمیر میں 138 کشمیربھارتی مظالم سے زخمی ہوئے، 54 نوجوانوں کو بھارتی افواج نے گرفتار کیا۔نفیس ذکریا نے کہا کہ بھارت کی جانب سے جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزیاں مقبوضہ کشمیر کی صورتحال سے توجہ ہٹانے کے لیے ہیں، رواں برس جنگ بندی کی 580 خلاف ورزیاں ہوئیں جن میں کئی شہری شہید ہوئے جب کہ بھارت اقوام متحدہ کے مبصرین کو بھی کام نہیں کرنے دے رہا۔
انہوں نے کہا کہ بھارت ہمارے خلاف افغان سرزمین استعمال کر رہا ہے، کل بھوشن جادیو کے اعترافات میں بھی اس نے بھارت کی جانب سے پاکستان میں دہشت گردی، تخریب کاری اور دہشت گردوں کی مالی امداد کا اعتراف کیا جب کہ احسان اللہ احسان کے رضاکارانہ بیان میں میں افغانستان سے بھارت کے دہشت گردوں کو پاکستان کے خلاف استعمال کرنے کا بھی ثبوت ملا۔
ترجمان دفتر خارجہ کا کہنا تھا کہ افغانستان کے مسئلے کا حل فوجی نہیں ہے، افغانستان کا مسلہ صرف بات چیت سے ہی حل کیا جا سکتا ہے، افغانستان گزشتہ 40 برس سے غیر یقینی کی صورتحال کا شکار ہے اور دہشت گردی کو اسی وجہ سے وہاں فروغ حاصل ہوا تاہم پاکستان افغانستان میں امن و استحکام چاہتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکی سینیٹرز کے وفد نے بھی متاثرہ علاقوں کا دورہ کیا اور رپورٹس سے ثابت ہوتا ہے کہ حقانی نیٹ ورک افغانستان میں موجود ہے، پاکستان نے 500 ملین امریکی ڈالرز کی مدد سے افغانستان میں صحت، تعلیم اور دیگر ترقیاتی منصوبے مکمل کیے جب کہ پاکستان افغانستان میں امن اور مفاہمت کے قیام کے لیے اپنا کردار جاری رکھے گا۔
نفیس ذکریا نے کہا کہ ہم پاکستانی سرزمین سے دہشت گردی کے مکمل خاتمے کے لیے پرعزم ہیں اور امریکہ سمیت دنیا کے کئی ممالک نے پاکستان کی انسداد دہشت گردی کی کوششوں کو تسلیم کیا، امریکی سینیٹرز نے اپنے بیانات میں بھی یہ بات کی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ فلسطین پر ہماری پالیسی واضح ہے، ہم ایک آزاد فلسطین کے حامی ہیں۔ترجمان نے کہا کہ ایران پاکستان سرحد پر شرپسند بالخصوص منشیات اسمگلر مسلسل مسائل پیدا کرتے رہتے ہیں، پاک ایران بارڈ کمیشن کا اجلاس اعلیٰ سطح پر ہوا جس میں تمام سرحدی امور پر تفصیلی بات چیت ہوئی۔
دوسری جانب بھارتی فورسز کی جانب سے لائن آف کنٹرول پر پاکستان کے سرحدی علاقوں میں بلا اشتعال فائرنگ کے نتیجے میں 2 شہریوں کی ہلاکت پر پاکستان کے دفتر خارجہ نے بھارتی ڈپٹی ہائی کمشنر جے پی سنگھ کو ایک بار پھر طلب کرکے واقعے پر احتجاج ریکارڈ کرایا۔جنوبی ایشیا کی علاقائی تعاون تنظیم ”سارک“ کے ڈائریکٹر جنرل محمد فیصل نے بھارتی ڈپٹی ہائی کمشنر جے پی سنگھ کو دفتر خارجہ طلب کرکے احتجاجی مراسلہ ان کے حوالے کیا۔گذشتہ روز ایل او سی پر بھارتی فوج کی بلا اشتعال فائرنگ کے نتیجے میں نکیال سیکٹر اور نیزہ پیر سیکٹر میں ایک ایک شہری جاں بحق جبکہ 5 زخمی ہوگئے تھے۔